«وتمت کلمة ربک» کا مطلب کیا ہے؟ (قرآن 6:115)
«وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ» کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے رب کی بات اپنی پوری حد کو پہنچ گئی۔ یہ سورۂ انعام کی ایک آیت کا پہلا جملہ ہے: آپ کے رب کی بات سچائی اور انصاف کے ساتھ پوری ہو چکی؛ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں، اور وہی سننے والا جاننے والا ہے (قرآن 6:115)۔ عربی میں یہ الفاظ یوں ہیں: وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا۔ لفظ بہ لفظ: «تمّت» مادہ (ت م م) سے ہے، جس کی اصل یہ ہے کہ کوئی چیز اپنی انتہا کو پہنچ جائے اور اس میں کوئی کمی باقی نہ رہے، اسی لیے عربی میں یہ فعل کسی چیز کے مکمل ہونے پر بھی بولا جاتا ہے اور کسی وعدے کے پورا ہونے پر بھی؛ «کلمة» بات یا قول ہے، اور قرآن میں اس کا دائرہ پھیل کر فیصلے اور وعدے کو بھی شامل کر لیتا ہے؛ «ربّک» یعنی آپ کے رب کی۔ لوگ جو چار املا لکھتے ہیں، tammat kalimatu rabbika اور wa tammat kalimatu rabbika اور wa tammat kalimatu اور watammat kalimatu rabbika، سب انہی الفاظ پر آتی ہیں، اور «و» وہ واؤ ہے جو اس آیت کو پچھلی آیت سے جوڑتی ہے۔
«صِدْقًا وَعَدْلًا» یعنی سچائی اور انصاف کے ساتھ — یہ بتاتا ہے کہ یہ تمام کس چیز میں ہے۔ مفسرین نے ان دو لفظوں کو وحی کے دو کاموں پر تقسیم کیا ہے: «صدق» کا تعلق خبروں سے ہے، تو غیب کی اور گزری ہوئی باتوں کی جو خبریں اس نے دیں وہ ویسی ہی سچی ہیں؛ اور «عدل» کا تعلق احکام سے ہے، تو جو حکم اس نے دیا وہ اٹھانے والوں پر انصاف کے ساتھ پڑتا ہے۔ اس سے پہلی آیت وہ سوال رکھتی ہے جس کا جواب یہ جملہ ہے: کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں، حالانکہ وہی ہے جس نے تمہاری طرف کتاب کھول کر بیان کی ہوئی اتاری (6:114)، اور اس کا اختتام یوں ہے کہ شک کرنے والوں میں سے نہ ہو جانا۔ اس کے بعد والی آیت بتاتی ہے کہ جو کہیں اور بڑی سند ڈھونڈنے نکلے اس کا کیا ہوتا ہے: اگر تم زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی بات مانو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے ہٹا دیں گے (6:116)۔
آیت کے دوسرے حصے کی نظیریں قرآن میں بہت ہیں۔ سورۂ انعام میں پہلے ہی جھٹلائے جانے والے رسولوں کے ذکر میں یہ بات آ چکی: اللہ کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں (6:34)؛ سورۂ یونس اسے اللہ کے دوستوں کے لیے بشارت کی بنیاد بناتی ہے: اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں (10:64)؛ اور سورۂ کہف میں نبی ﷺ کو تلاوت جاری رکھنے کی وجہ کے طور پر یہی کہا گیا: اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں، اور تم اس کے سوا کوئی پناہ نہ پاؤ گے (18:27)۔ پہلے حصے کی اپنی نظیریں ہیں، اور وہاں یہی فعل وعدے کے پورا ہونے کے معنی میں پڑھا جاتا ہے۔ سورۂ اعراف اسے بنی اسرائیل کی نجات کے بارے میں لاتی ہے: آپ کے رب کی اچھی بات بنی اسرائیل کے حق میں پوری ہوئی، اس لیے کہ انہوں نے صبر کیا (7:137)، اور سورۂ ہود اسے دوسرے انجام کے بارے میں لاتی ہے: اور آپ کے رب کی بات پوری ہو گئی (11:119)۔ ایک ہی فعل دونوں معنی اٹھاتا ہے، اسی لیے 6:115 میں مترجمین کبھی مکمل ہو جانے والی بات کہتے ہیں اور کبھی پوری ہو جانے والی۔
مفسرین اس آیت میں «کلمة ربک» کے مراد میں مختلف ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ اس سے خود قرآن مراد ہے، یعنی وہی کتاب جس کا ذکر پچھلی آیت میں کھول کر بیان کی ہوئی اور اتاری ہوئی کے طور پر ہوا، تو مطلب یہ ہوا کہ وحی مکمل ہو کر آئی ہے اور کسی کا ہاتھ اس تک نہیں پہنچتا۔ دوسری رائے اس لفظ کو وسیع تر معنی میں لیتی ہے، یعنی اللہ کا فیصلہ اور وعدہ، اور یہی معنی اعراف اور ہود میں کھلا ہوا ہے، تو مطلب یہ ہوا کہ معاملات کے انجام کے بارے میں اللہ نے جو کہہ دیا وہ پورا ہو چکا اور اسے پلٹا نہیں جا سکتا۔ متواتر قراءتوں میں یہاں واحد «کلمة» اور جمع «کلمات» کا فرق بھی ہے، اور معنی دونوں میں قریب رہتا ہے، کیونکہ پوری وحی کو سمیٹنے والی بات اور فیصلے کی ایک بات، دونوں ایک ہی لفظ ہیں جن کی گنتی الگ ہے۔ دونوں رائیں پرانی ہیں اور دونوں کے قائل معتبر مفسرین ہیں۔ اگر آپ ہر رائے کی دلیل دیکھنا چاہیں تو کسی معتبر عالم سے رجوع کریں جو آپ کو اہلِ تفسیر کا کلام پڑھا دے۔
آج جو شخص یہ آیت پڑھتا ہے، اسے یہ بتاتی ہے کہ اس کے پاؤں کہاں ٹکے ہیں: جو بات تمہیں دی گئی ہے وہ پوری ہے، اور کسی کے ہاتھ میں ایسا قلم نہیں جو اس تک پہنچے۔ سورۂ انعام نے دونوں باتیں ایک ہی سانس میں جمع کر دیں، تمام ہونا اور تبدیلی سے محفوظ رہنا، پھر اللہ کو سننے والا اور جاننے والا کہہ کر بات ختم کی، یعنی جس کی بات بدلی نہیں جا سکتی وہی ہے جو اس وقت تمہاری سن رہا ہے۔
📖 حوالہ: قرآن 6:34؛ 6:114–116؛ 7:137؛ 10:64؛ 11:119؛ 18:27
آئی فون یا اینڈرائیڈ کے لیے حکمہ حاصل کریں