آئی فون یا اینڈرائیڈ کے لیے حکمہ ڈاؤن لوڈ کریں۔ آغاز مفت ہے۔

ماہانہ انتظامی اخراجات کے لیے مقررہ رقم سے زائد آمدنی فلسطین میں امداد کے لیے مختص ہے۔

Download on the App StoreGet it on Google Play

«یدبر الأمر» کا مطلب کیا ہے؟ (قرآن 32:5)

«یُدَبِّرُ الْأَمْرَ» کا مطلب ہے کہ اللہ ہر معاملے کا انتظام کرتا اور اسے اس کے انجام تک لے جاتا ہے۔ یہ سورۂ سجدہ کی اس آیت کا آغاز ہے: وہ آسمان سے زمین تک ہر کام کا انتظام کرتا ہے، پھر وہ کام ایک ایسے دن میں اس کی طرف چڑھتا ہے جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ہزار برس ہے (قرآن 32:5)۔ عربی میں یہ الفاظ یوں ہیں: يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ إِلَى ٱلْأَرْضِ۔ لوگ اکثر جو املا لکھتے ہیں، «یدبر الامر منس»، وہ اگلے لفظ کے بیچ میں رک جاتی ہے: «منَ السماءِ» یعنی ”آسمان سے“ اور «إلى الأرض» یعنی ”زمین تک“۔ لفظ بہ لفظ دیکھیں تو «یدبر» فعل ہے، «الأمر» سے مراد معاملہ یا حکم ہے، اور دونوں حرفِ جر اس فاصلے کو بیان کرتے ہیں جو یہ حکم طے کرتا ہے۔ فعل مادہ (د ب ر) سے ہے، جس کا بنیادی مفہوم کسی چیز کی پشت یا اس کا آخر ہے، اور اسی سے «تدبیر» بنتی ہے یعنی انجام پر نظر رکھتے ہوئے کام سنبھالنا۔ فعل مضارع ہے، اور مفسرین اسے تسلسل پر محمول کرتے ہیں: یہ انتظام ابھی جاری ہے اور رکتا نہیں۔

یہ آیت دو ایسی آیتوں کے درمیان ہے جو انتظام کرنے والے کا نام لیتی ہیں۔ اس سے پہلے ہے کہ اللہ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر عرش پر قرار پکڑا (32:4)، اور اس کے بعد ہے کہ وہی غیب اور حاضر کا جاننے والا، زبردست، رحم کرنے والا ہے (32:6)۔ یہی فعل قرآن میں اسی سیاق کے ساتھ بار بار آتا ہے۔ سورۂ یونس میں عرش کے ذکر کے فوراً بعد «یدبر الأمر» ہے (10:3)، اور آگے چل کر ایسے سوالوں کی فہرست میں جن کا جواب ایک ہی ہے: «ومن یدبر الأمر» (10:31)۔ سورۂ رعد میں ہے کہ وہ کام کا انتظام کرتا اور نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے (13:2)، اور سورۂ اعراف میں پوری بات ایک جملے میں سمٹ آتی ہے: خبردار، پیدا کرنا اور حکم دینا اسی کا ہے (7:54)۔

جس دن کی مقدار ہزار برس بتائی گئی ہے، اس میں مفسرین کی کئی رائیں ہیں۔ بعض نے اسے حکم کے نزول اور عروج کا کل سفر قرار دیا، کہ ایک دن میں وہ فاصلہ طے ہوتا ہے جو کوئی چلنے والا ہزار برس میں طے کرے۔ بعض نے اسے قیامت کے دن کی مقدار پر محمول کیا اور سورۂ حج کی اس بات سے تائید لی کہ تمہارے رب کے ہاں ایک دن تمہارے شمار کے ہزار برس جیسا ہے (22:47)، نیز سورۂ معارج سے کہ فرشتے اور روح اس کی طرف ایسے دن میں چڑھتے ہیں جس کی مقدار پچاس ہزار برس ہے (70:4)، اور ان کے نزدیک عدد کا یہ فرق بتاتا ہے کہ دونوں جگہ عروج الگ الگ ہے۔ قرآن نے اس مسئلے کو ایک لفظ میں طے نہیں کیا، اور متقدمین کی رائیں ایک دوسرے کے ساتھ قائم ہیں۔

آج جو شخص یہ آیت پڑھتا ہے، اس کے اپنے چھوٹے چھوٹے معاملات ایک ایسے انتظام کے اندر آ جاتے ہیں جو پہلے سے قائم ہے۔ سورۂ طلاق میں یہی بات صاف کہی گئی ہے کہ اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے، اور اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے (65:3)۔ اگر آپ ہزار برس کی مقدار پر کوئی متعین رائے چاہتے ہیں تو کسی معتبر عالم سے رجوع کریں جو آپ کو اہلِ تفسیر کا کلام پڑھا دے۔

📖 حوالہ: قرآن 7:54؛ 10:3؛ 10:31؛ 13:2؛ 22:47؛ 32:4–6؛ 65:3؛ 70:4

آئی فون یا اینڈرائیڈ کے لیے حکمہ حاصل کریں

متعلقہ سوالات