قرآن (75:7) میں «بَرِقَ الْبَصَرُ» کا کیا مطلب ہے؟
«بَرِقَ» عربی کا وہ فعل ہے جو ایسی نگاہ کے لیے آتا ہے جو ٹھہر کر رہ جائے اور کسی چیز پر جم نہ سکے، جیسے اچانک چمک کے سامنے آنکھ ساکت ہو جاتی ہے۔ قرآن میں یہ لفظ ایک ہی بار آیا ہے، سورۂ قیامہ کے ایک منظر کے آغاز میں: «فَإِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ» (القیامہ 75:7)۔ «البصر» سے مراد بینائی یا آنکھ ہے، اور «فإذا» آنے والے وقت کا ظرف ہے۔ لوگ عام طور پر اسی ترکیب کو «فا اذا برق البصر» یا «بَرِقَل بصر» لکھ کر تلاش کرتے ہیں۔
اس کا مادہ (ب ر ق) وہی ہے جو «بَرْق» یعنی بجلی کا ہے، اور تصویر یہیں سے آتی ہے۔ اللہ طوفان میں گھرے لوگوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: «یَکَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ أَبْصَارَهُمْ» (البقرہ 2:20)، اور اولوں سے بھرے بادلوں کے بارے میں: «یَکَادُ سَنَا بَرْقِهِ یَذْهَبُ بِالْأَبْصَارِ» (النور 24:43)۔ «بَرِقَ الْبَصَرُ» اسی لمحے کی آنکھ ہے: کھلی ہوئی، جمی ہوئی، کچھ نہ دیکھتی ہوئی۔
اپنے سیاق میں یہ لفظ قیامت کے منظر کا آغاز کرتا ہے۔ آیتیں یکے بعد دیگرے آتی ہیں: «وَخَسَفَ الْقَمَرُ * وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ»، اور پھر انسان کا ردِعمل: «یَقُولُ الْإِنْسَانُ یَوْمَئِذٍ أَیْنَ الْمَفَرُّ» (القیامہ 75:8–10)۔ یہی کیفیت سورۂ ابراہیم میں ہے، جہاں ظالموں کو اُس دن تک مہلت دی جاتی ہے «لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیهِ الْأَبْصَارُ» (ابراہیم 14:42)۔ قاریوں کے ہاں لفظ کی دو قراءتیں منقول ہیں: «بَرِقَ» راء کے کسرے کے ساتھ، یعنی دہشت سے نگاہ کا کھلا رہ جانا، اور «بَرَقَ» فتحے کے ساتھ، یعنی آنکھ کا چمک اٹھنا۔ دونوں صورتوں میں منظر قریب قریب ایک ہی ہے۔
📖 حوالہ: قرآن 2:20؛ 14:42؛ 24:43؛ 75:7–10
آئی فون یا اینڈرائیڈ کے لیے حکمہ حاصل کریںمتعلقہ سوالات
- آج قرآن حفظ کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟
- نماز میں خشوع کیسے پیدا کروں؟
- کسی کے انتقال پر کون سی دعا پڑھی جائے؟