آئی فون یا اینڈرائیڈ کے لیے حکمہ ڈاؤن لوڈ کریں۔ آغاز مفت ہے۔

ماہانہ انتظامی اخراجات کے لیے مقررہ رقم سے زائد آمدنی فلسطین میں امداد کے لیے مختص ہے۔

Download on the App StoreGet it on Google Play

«فبأی آلاء ربکما تکذبان» کا مطلب کیا ہے؟ (قرآن 55:13)

«فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» کا مطلب ہے: تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ یہ سورۂ رحمن کی ایک مکمل آیت ہے: «فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» (قرآن 55:13)۔ «آلاء» نعمتوں کے معنی میں جمع ہے، اور اہلِ لغت نے اس کے ایک سے زیادہ مفرد ذکر کیے ہیں۔ «ربِّکما» میں «کما» تثنیہ کی ضمیر ہے، یعنی خطاب دو فریقوں سے ہے، نہ ایک سے اور نہ پوری جماعت سے۔ «تکذّبان» مادہ (ک ذ ب) سے باب تفعیل میں ہے، یعنی کسی چیز کو جھوٹ قرار دینا، اور یہ بھی تثنیہ کے صیغے میں ہے۔ لوگ لاطینی حروف میں جو املا لکھتے ہیں، fabi ayyi aalaaa’i rabbikumaa tukazzibaan اور fabi ayyi ala i rabbikuma tukazziban، وہ سب اسی ایک آیت پر آتی ہیں۔

آیت کو اس کے نمبر سے تلاش کریں تو ایک نہیں، اکتیس جگہیں ملتی ہیں۔ یہ اسی سورت میں آیت 13 سے آیت 77 تک اکتیس بار آتی ہے، اور ہر بار کسی نعمت کے ذکر کے فوراً بعد۔ یہی تکرار سورت کی ساخت ہے: نعمت بیان ہوتی ہے، پھر سوال آتا ہے۔

جن دو کو خطاب ہے، سورت خود ان کا نام لیتی ہے۔ پہلی بار آیت آنے کے بعد انسان کا ذکر ہے «خَلَقَ ٱلْإِنسَـٰنَ مِن صَلْصَـٰلٍ كَٱلْفَخَّارِ» (55:14)، پھر جن کا «وَخَلَقَ ٱلْجَآنَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ» (55:15)۔ دونوں کو آگے چل کر پھر پکارا جاتا ہے: «سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ ٱلثَّقَلَانِ» (55:31)، اور «يَـٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ إِنِ ٱسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا۟ مِنْ أَقْطَارِ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ فَٱنفُذُوا۟ ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَـٰنٍ» (55:33)، اور قیامت کے دن کے بارے میں «فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْـَٔلُ عَن ذَنۢبِهِۦٓ إِنسٌ وَلَا جَآنٌّ» (55:39)۔ سورۂ انعام میں یہی دونوں ایک ہی خطاب میں جمع ہیں، جہاں ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے (6:130)۔

پہلی بار آیت آنے سے پہلے جو کچھ ہے، وہ عطا کی ہوئی چیزوں کی فہرست ہے۔ سورت اسی نام سے کھلتی ہے «ٱلرَّحْمَـٰنُ»، پھر «عَلَّمَ ٱلْقُرْءَانَ»، پھر «خَلَقَ ٱلْإِنسَـٰنَ»، پھر «عَلَّمَهُ ٱلْبَيَانَ»۔ اس کے بعد منظم کائنات: «ٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ»، آسمان کا بلند کیا جانا اور میزان کا قائم کیا جانا، پھر اسی سے نکلنے والا حکم «وَأَقِيمُوا۟ ٱلْوَزْنَ بِٱلْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا۟ ٱلْمِيزَانَ»، اور زمین جو مخلوق کے لیے بچھائی گئی، اس میں پھل، کھجور، دانہ اور خوشبودار پودے (55:10–12)۔ پہلا «فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ» اسی فہرست کے اختتام پر آتا ہے۔

مفسرین «آلاء» کے دائرے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ظاہر قول یہ ہے کہ اس سے وہی نعمتیں مراد ہیں جو ابھی ذکر ہوئیں، اور متقدمین کی اکثر تفاسیر اسے نِعَم ہی سے تعبیر کرتی ہیں۔ دوسری رائے اس سے وسیع ہے، اور اس کی بنیاد آیت کے مواضع پر ہے، کیونکہ یہ آیت آگ اور حساب کے ذکر کے بعد بھی آتی ہے؛ اس لیے بعض نے «آلاء» کو اللہ کے افعال اور مظاہرِ قدرت پر عام رکھا، اس بنا پر کہ وقت پر دیا گیا انتباہ بھی ایک عطا ہے۔ دونوں قول مروی ہیں اور آیت ان میں فیصلہ نہیں کرتی۔ اگر آپ کو کوئی متعین رائے درکار ہو تو کسی معتبر عالم سے رجوع کریں جو آپ کو اہلِ تفسیر کا کلام پڑھا دے۔

یہی سوال اس سورت سے باہر ایک بار آیا ہے، سورۂ نجم میں، واحد کی ضمیر اور دوسرے فعل کے ساتھ: «فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارَىٰ» (53:55)۔ اور سورۂ رحمن اپنی گنتی دو بار سمیٹتی ہے: پہلے اس پر جو سب کچھ فنا ہونے کے بعد باقی رہتا ہے، «كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ» اور «وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو ٱلْجَلَـٰلِ وَٱلْإِكْرَامِ» (55:26–27)، پھر اس پیمانے پر جو پوری سورت لیتی رہی ہے، «هَلْ جَزَآءُ ٱلْإِحْسَـٰنِ إِلَّا ٱلْإِحْسَـٰنُ» (55:60)۔ اور اسی نام پر ختم ہوتی ہے جس سے شروع ہوئی تھی: «تَبَـٰرَكَ ٱسْمُ رَبِّكَ ذِى ٱلْجَلَـٰلِ وَٱلْإِكْرَامِ» (55:78)۔ سورۂ نحل بتاتی ہے کہ یہ سوال سرے سے ممکن کیوں ہے: «وَإِن تَعُدُّوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ لَا تُحْصُوهَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» (16:18)۔

📖 حوالہ: قرآن 55:1–15؛ 55:26–27؛ 55:31؛ 55:33؛ 55:39؛ 55:60؛ 55:78؛ 53:55؛ 6:130؛ 16:18

آئی فون یا اینڈرائیڈ کے لیے حکمہ حاصل کریں

متعلقہ سوالات