آئی فون یا اینڈرائیڈ کے لیے حکمہ ڈاؤن لوڈ کریں۔ آغاز مفت ہے۔

ماہانہ انتظامی اخراجات کے لیے مقررہ رقم سے زائد آمدنی فلسطین میں امداد کے لیے مختص ہے۔

Download on the App StoreGet it on Google Play

قرآن (75:26) میں «کَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ» کا کیا مطلب ہے؟

«كَلَّآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلتَّرَاقِىَ» سورۂ قیامہ کی چھبیسویں آیت کا آغاز ہے (قرآن 75:26)۔ «کلَّا» ردع کا کلمہ ہے، یعنی وہ لفظ جو اپنے سے پہلے کی بات کو روک دیتا ہے؛ «إذا» آنے والے وقت کا ظرف ہے؛ «بلغت» ماضی کا مؤنث فعل ہے جس کا فاعل ذکر نہیں کیا گیا؛ اور «التراقی» ترقوہ کی جمع ہے، یعنی گردن کی جڑ میں سینے کے اوپر والی ہڈی۔ لوگ عام طور پر اسی ترکیب کو «کلا اذا بلغت التراقی» لکھ کر تلاش کرتے ہیں۔

عربی میں فاعل اُس وقت چھوڑ دیا جاتا ہے جب سیاق خود اس پر دلالت کرے، اور مفسرین نے یہاں «نفس» یا «روح» مقدر مانی ہے؛ نفس مؤنث ہے، اس لیے «بلغت» کے ساتھ موافق ہے۔ سورۂ واقعہ میں اسی موقع پر یہ بات کھول کر کہی گئی ہے: «فَلَوْلَآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلْحُلْقُومَ» (الواقعہ 56:83)۔ ترقوہ اس بات کی حد بتاتا ہے کہ نکلنا کہاں تک پہنچ چکا: سینہ عبور ہو چکا، گردن کی جڑ تک بات آ گئی، اور حلق اس کے بعد ہے۔

اس کے بعد کی آیتیں منظر کو بغیر وقفے کے مکمل کرتی ہیں: «وَقِيلَ مَنْ ۜ رَاقٍ» (75:27)، اور «راقی» طبیب کے لیے بھی آتا ہے اور اُس شخص کے لیے بھی جو مریض پر دم کرے۔ پھر «وَظَنَّ أَنَّهُ ٱلْفِرَاقُ» (75:28)، پھر «وَٱلْتَفَّتِ ٱلسَّاقُ بِٱلسَّاقِ» (75:29)، اور پھر یہ کہ سارا معاملہ کہاں جا رہا ہے: «إِلَىٰ رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ ٱلْمَسَاقُ» (75:30)۔

یہی لمحہ دوسری جگہوں پر بھی انہی حسی الفاظ میں کھینچا گیا ہے۔ واقعہ آگے کہتی ہے: «وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ» (56:85)، پھر حساب کے منکر کو چیلنج کرتی ہے کہ اگر سچے ہو تو اُس روح کو واپس لے آؤ (56:87)۔ سورۂ غافر اُس دن سے ڈراتی ہے «وَأَنذِرْهُمْ يَوْمَ ٱلْـَٔازِفَةِ إِذِ ٱلْقُلُوبُ لَدَى ٱلْحَنَاجِرِ كَـٰظِمِينَ ۚ مَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِنْ حَمِيمٍ وَلَا شَفِيعٍ يُطَاعُ» (40:18)۔ سورۂ احزاب میں خندق کے خوف کے لیے یہی تصویر ہے: «وَبَلَغَتِ ٱلْقُلُوبُ ٱلْحَنَاجِرَ» (33:10)، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تصویر اسی سے لی گئی ہے جو دہشت بدن کے ساتھ کرتی ہے۔ سورۂ انعام میں یہ منظر باہر سے دکھایا گیا ہے، جہاں ظالم «فِى غَمَرَٰتِ ٱلْمَوْتِ» ہیں اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھائے ہوئے ہیں (6:93)۔

قرآن اس تصویر کے ساتھ قرب کو رکھتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے: «وَلَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِۦ نَفْسُهُۥ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ ٱلْوَرِيدِ» (ق 50:16)، اور واقعہ کی آیتوں میں یہی قرب عین نزع کے وقت بیان ہوا ہے۔ آیت 75:27 کے سوال «مَنْ رَاقٍ» کو ایک سے زیادہ طرح پڑھا گیا ہے۔ بعض مفسرین اسے مریض کے پاس موجود لوگوں کا قول کہتے ہیں: کوئی طبیب یا دم کرنے والا ہے جو اسے شفا دے؟ بعض «رقی» کو چڑھنے کے معنی میں لے کر اسے فرشتوں کا سوال قرار دیتے ہیں: ان میں سے کون اس روح کو اوپر لے جائے گا؟ دونوں قول منقول ہیں اور آیت کسی ایک کو متعین نہیں کرتی۔

اگر اس آیت کو ٹال مٹول سے خبردار کرنے کے طور پر پڑھا جائے تو یہ مہلت کے ختم ہونے کی جگہ بتاتی ہے۔ سورۂ نساء میں ہے کہ توبہ اُن کے لیے نہیں جو برائیاں کرتے رہتے ہیں «حَتَّىٰٓ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ ٱلْمَوْتُ» اور تب کہتے ہیں کہ اب میں نے توبہ کی (4:18)، اور اس آیت کا «ترقوہ» بدن کی طرف سے اسی حد کا نام ہے۔ اسی سورت میں اس سے پہلے قیامت کا منظر یوں کھلتا ہے: «فَإِذَا بَرِقَ ٱلْبَصَرُ» (75:7)۔ توبہ کی صحت کی شرط اور اس کا وقت کب ختم ہوتا ہے، اس میں اہلِ علم کے اقوال مختلف ہیں؛ جو بات تم پر لازم ہو، اس کے لیے کسی معتبر عالم سے رجوع کرو۔

📖 حوالہ: قرآن 4:18؛ 6:93؛ 33:10؛ 40:18؛ 50:16؛ 56:83–87؛ 75:7؛ 75:26–30

آئی فون یا اینڈرائیڈ کے لیے حکمہ حاصل کریں

متعلقہ سوالات